ایران نے اسرائیل پر 27 میزائل داغے، تحقیقی تنصیبات اور سپورٹ بیسز کو بنایا نشانہ، بڑے پیمانے پر تباہی، متعدد اسرائیلی زخمی
اپنی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی بوچھار کر دی ہے۔
اسرائیلی حکومت کے مطابق جن علاقوں کو نشانہ بنایا گیا وہ کافی بڑے ہیں جو کہ مقبوضہ شام کی گولان کی پہاڑیوں سے لے کر بالائی گلیل تک، شمالی اور وسطی ساحلی علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ دس الگ الگ سائٹس کو براہ راست میزائلوں سے یا بڑے شارپنل سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان سائٹس میں خاص طور پر تل ابیب کے علاقے اور حیفہ میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے۔
اسرائیلی طبی خدمات کی ابتدائی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ 16 اسرائیلی زخمی ہیں۔
ریسکیو آپریشن جاری ہے اور طبی عملہ اب بھی تباہ شدہ علاقوں میں تلاشی مہم چلا رہا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا ہے کہ ایران کے تازہ ترین میزائل حملوں میں اسرائیل کے بین گوریون بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ تحقیقی تنصیبات اور سپورٹ بیسز اور کنٹرول اور کمانڈ سنٹرز کی مختلف پرتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حملے میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے مائع اور ٹھوس ایندھن دونوں میزائلوں کا استعمال شامل ہے۔

یہ یقینی طور پر پہلی بار ہے کہ دو میزائلوں کے بیریج اتنے کم وقت میں پہنچ گئے۔ عام طور پر، میزائلوں کی ہر والی کے درمیان گھنٹوں کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس بار آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت تھا۔
ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی بمباری کے بعد اسرائیل پر یہ پہلا حملہ ہے۔
یروشلم اور تل ابیب میں دھماکوں کی گونج سنی گئی ہے، اسرائیل کے بیشتر علاقوں میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے، آج امریکہ نے اپنے B2 طیاروں کا استعمال کرتے ہوئے اپنے سب سے خطرناک اور مہلک بنکر بسٹر بم ایران کی جوہری تنصیبات پر گراے ہیں۔ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 6 بنکر بسٹر بم گرائے ہیں۔ جس میں ایران کی جوہری تنصیبات پوری طرح سے تباہ ہو گئی ہیں۔